ابنا: اسكندر وتوت نے زور دیا کہ دہشت گرد گروہوں کے ساتھ جنگ کو مکمل طور پر ختم کرنے میں وقت لگے گا کیونکہ ہزاروں دہشت گرد سرحدوں سے عراق میں داخل ہو چکے ہیں اور ساتھ ہی ترکی، قطر، سعودی عرب سمیت کچھ دوسرے علاقائی ممالک کی انہیں حمایت حاصل ہے۔
وتوت نے المصدر نیوز سے بات چیت میں کہا کہ پارلیمنٹ کے دفاعی کمیشن نے ان گروہوں کو ختم کرنے کے لئے حدود پر کنٹرول رکھنے پر زور دیا تھا اور اگر ہم دشمن کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو ان کے خلاف باہر سے محاصرے ہو اور اندر سے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
عراقی پارلیمنٹ میں دفاعی کمیشن کے سابق رکن نے کہا کہ بغداد پرامن اور محفوظ ہے اور کوئی بھی دہشت گرد گروہ اس شہر میں دراندازی نہیں کر سکتا اور پورے عوام اس سازش کو ناکام بنانے کے لئے حکومت کے ساتھ ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے اس سے پہلے مشرق وسطی کے امور کے کجھ امریکی ماہرین اور مشرق وسطی کے کچھ حکام کے حوالے سے لکھا کہ خلیج فارس کے عرب ممالک کی بہت سی تنظیمیں عراق اور شام سمیت دوسرے ممالک میں سرگرم دہشت گرد گروہ داعش، جبہۃ النصرہ اور انصار الشام کی مالی مدد کر رہے ہیں اور خفیہ طور پر رقم بھیج کر ان گروہوں کو طاقتور بنا رہے ہیں تاکہ وہ جنگ کے میدان میں اپنی حیثیت محفوظ رکھ سکیں۔
.......
/169م